عاصمہ شیرازی کا کالم: سرکس، جانور اور ہنٹر

February 2, 2021 1:11 pm by Web Desk


  • عاصمہ شیرازی
  • صحافی

میانمار، مارشل لا نافذ، آنگ سان سوچی

ابتدا میں سرکس میں ناچنے والے سارے جانور کامیاب شو کرتے رہے۔ آغاز میں رنگ ماسٹر کے ہاتھوں چمڑے کا ہنٹر استعمال ہوتا رہا۔ شیر، چیتا، بندر، بکری یہاں تک کہ بلی بھی طرح طرح کے کرتب سیکھ گئی۔

ایک ایسا وقت آیا کہ سرکس کے جانوروں کو سدھانے والے ماسٹر نے شیر، چیتے، بندر سمیت سارے جانوروں کو مار مار کر اس طرح بنا دیا کہ محض ہاتھ کے اشارے سے جانور کرتب دکھانے لگے۔ شیر چیتے کی، چیتا شیر کی، بندر بکری کی اور بکری بلی کی ٹانگیں کھینچتی۔

یوں سارے جانور رنگ کے اندر ہی اندر ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے رہتے اور ماسٹر سائیڈ پر بیٹھ کر تماشا دکھاتا رہتا۔ دیکھنے والے تالیاں بجاتے رہتے، شور مچتا رہتا جب عوام اُکتا جاتے تو کھیل شیر کی بجائے چیتے سے اور کبھی بندر سے شروع کر دیا جاتا۔

ایسا کرتے کرتے جانور تھک گئے اور تماش بین اُکتا گئے، عوام کو آہستہ آہستہ جانوروں پر ترس آنے لگا۔ وہ اُنھیں رہا دیکھنا چاہتے تھے لیکن جانور اپنے اپنے پنجروں میں بند دُبک کر بیٹھ گئے۔



Source link


Previouse Post :«

Next Post : »